ہانگ جو5؍ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)باراک اوباما نے کہا ہے کہ امریکا روس کے ساتھ مذاکرات میں شامی خانہ جنگی کے خاتمے کے امکان کی حد تک ابھی نہیں پہنچامگرچونکہ امریکی اور روسی حکام کے دوران مسلسل مذاکرات جاری ہیں اس لیے یہ ہدف کسی بھی وقت حاصل ہوسکتاہے۔امریکی صدر کا کہنا تھاکہ ہم ایک طرح کے طریقوں کی تلاش میں رہے ہیں کہ وہاں تشدد کا خاتمہ اور متاثرہ افرادتک امدادی اشیا پہنچانے کی راہ ہموار ہو سکے اور یہی شام کے اندر سیاسی تبدیلی سے قبل ضروری اقدامات بھی ہیں۔اوباماکا مزید کہناتھاکہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ کام ہے۔باراک اوباما چینی شہر ہانگ جو میں ہونے والی دنیا کی20مضبوط ترین معیشتوں کے گروپ، جی ٹوئنٹی کی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے چین میں موجود ہیں۔ اس کانفرنس کے حاشیے میں اوباما نے شامی صدر کو حاصل روسی حمایت کے حوالے سے روس کے ساتھ موجود انتہائی گہرے اختلافات کا بھی ذکر کیا۔ تاہم امریکی میڈیا رپورٹوں کے مطابق واشنگٹن اورماسکوکے درمیان شام کے حوالے سے جلد کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے جس کا اعلان آج اتوار کی شام تک ہوسکتاہے۔CBSنیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک ایک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں جس کے تحت دہشت گرد گروپوں کے خلاف لڑائی کے لیے ملٹری اور انٹیلیجنس تعاون میں اضافہ کیا جائے گا، جبکہ اس کے عوض روس اپنے اتحادی بشار الاسد کو اس بات پر تیار کرے گا کہ وہ سویلین پر حملوں کا سلسلہ روک دیں اور متاثرین تک انسانی بنیادوں پر امداد پہنچانے کی اجازت دیں۔اوباما کا کہنا تھا کہ شام میں جاری تنازعے کے خاتمے کے لیے روس کا تعاون انتہائی اہم ہے۔ اوباما کے مطابق اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے امریکی وزیر خارجہ جان کیری اپنے روسی ہم منصب سیرگئی لاوروف کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ وہاں جاری تشدد میں کمی واقع ہو سکے۔جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق امریکی صدر کا کہنا تھا، ہم ابھی تک وہاں نہیں پہنچے۔ اور ظاہر ہے جنگ کو رکوانے کی سابقہ کوششوں میں ناکامی کے بعد ہم اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے کچھ خدشات بھی رکھتے ہیں۔۔۔ مگر پھر بھی یہ کوشش کرنا اہم ہے۔شامی تنازعے کاآغاز صدر بشار الاسد کے خلاف2011ء میں پر امن مظاہروں سے ہوا تھا مگر جلد ہی یہ ایک مکمل جنگ کی صورتحال اختیارکر گیا۔ شام میں جاری اس بحران کی وجہ سے اندازوں کے مطابق اب تک تین لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کئی ملین بے گھر ہیں۔